On 5 August 2019, India, yet again, in violation of international law and norms undertook illegal and unilateral actions in the Indian Illegally Occupied Jammu & Kashmir (IIOJK) to further perpetuate its occupation.

Through these actions, India tried to change the demographic structure of the occupied territory and eliminate the distinct identity of the Kashmiri people in violation of UN Charter and International law, including the 4th Geneva Convention. These Indian actions were also aimed at denying the right to self-determination to the Kashmiri people that was promised to them in numerous resolutions of the UN Security Council.

Through continuous illegal steps, the racially motivated BJP Government of India has created an environment of fear and chaos in IIOJK. The people of IIOJK are being subjected to collective punishment by the Indian Occupation Forces, which have turned the territory into the largest militarized zone in the world.

For the past twenty-four months, Kashmiris have suffered the worst human rights violations at the hands of the Indian Occupation Forces which include military sieges and unprecedented restrictions on fundamental freedoms of Kashmiris. To this day, the senior Kashmiri leadership remains imprisoned under trumped-up charges. Extra-judicial killings and arbitrary arrests and detentions also continue unabated.

These illegal Indian actions in IIOJK are a manifestation of the rising Hindu Fascism in India and are aimed at breaking the spirit of the Kashmiri people. These steps were also forcefully rejected by Pakistan, the Kashmiris, and the international community. These Indian actions have also been denounced by international media and human rights organizations as a means to continue its illegal and brutal occupation of the region.

The day also serves as a reminder to the international community to hold India accountable for its war crimes against the civilian population of IIOJK and deliver on its promise to the Kashmiris. A just and peaceful settlement of the Jammu and Kashmir dispute, in accordance with relevant UN Security Council resolutions and the wishes of the Kashmiri people, is indispensible for durable peace and stability in South Asia.

The international community must call upon India to end its campaign of repression and human rights abuses in IIOJK and reverse all its illegal actions, including those initiated on and after 5 August 2019, and to cease and desist from imposing any additional unilateral changes in the occupied territory.

The people of Pakistan stand firmly by their Kashmiri brethren in their just struggle and will continue to highlight the Jammu and Kashmir dispute to the international community. Our ultimate objective remains the peaceful resolution of the Jammu and Kashmir dispute as per relevant UN Security Council Resolutions and the wishes of the Kashmiri people.

بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں وحشیانہ قبضے کو جاری رکھنے کے لئے 5 اگست 2019 جیسے غیر قانونی اقدامات کشمیری عوام کے جذبے کو توڑنے میں ناکام ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مہم کو ختم کرے اور اپنے تمام غیر قانونی اقدامات کو واپس لے، پاکستانی عوام کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  5 اگست 2019 کو بھارت نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر  اپنے قبضے کو مزید برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔ ان اقدامات کے ذریعے بھارت نے مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون بشمول چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی الگ شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ ان بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے استعمال کو روکنا تھا جس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ مسلسل غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے ، بھارتی حکومت نے غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں خوف اور انتشار کا ماحول پیدا کیا ہے۔ وہاں لوگوں کو بھارتی قابض افواج کی طرف سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور اس علاقے کو دنیا کے سب سے بڑے عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ پچھلے چوبیس مہینوں سے کشمیریوں کو بھارتی قابض افواج کی طرف سے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں فوجی محاصرہ اور کشمیریوں کی بنیادی آزادیوں پر بے مثال پابندیاں شامل ہیں۔ آج تک سینئر کشمیری قیادت  پابند سلاسل ہے، ماورائے عدالت قتل اور صوابدیدی گرفتاریاں اور حراستیں بھی بلا روک ٹوک جاری ہیں۔  بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا مقصد کشمیری عوام کے جذبے کو توڑنا تھا لیکن یہ واضح طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ان اقدامات کو پاکستان ، کشمیریوں اور عالمی برادری نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔  ان بھارتی اقدامات کی بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مذمت کی ہے جو خطے پر غیر قانونی اور وحشیانہ قبضے کو جاری رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔

 یہ دن عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی بھی دلاتا ہے کہ وہ بھارت کو اس کے ان اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرائے اور کشمیریوں کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کرے۔  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مہم کو ختم کرے اور اپنے تمام غیر قانونی اقدامات بشمول 5 اگست 2019 کو اور اس کے بعد شروع کیے گئے اقدامات کو واپس لے اور مقبوضہ علاقے میں کسی بھی طرح کی مزید یکطرفہ تبدیلیاں کرنے سے باز رہے۔ پاکستانی عوام کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جموں و کشمیر کے تنازع کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرتے رہیں گے۔ ہمارا حتمی مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کا پرامن حل ہے۔